2016/02/01

اسلام اور آنٹرپرینیورشپ


آنٹرپرینیورشپ ان عوامل میں سے ایک ہے جو کسی فرد بلکہ ملک کی معاشی صورت حال کو تبدیل کرسکتی ہے۔ اس کے ذریعے بہت سے افراد برسر روزگار ہو سکتے ہیں اوربہت سے افراد کو روزگار مہیا کیا جا سکتا ہے ۔ یہی سبب ہے کہ اسلام میں بیع مبرور ، کاروبار، تجارت یا آنٹرپرینیورشپ پر بہت زور دیا گیا ہے ۔  

2015/09/28

اسلاموفوبیا: محرکات ، اثرات اور تدارک



مئی ۲۰۱۵: ممبئی میں ایک ایم بی اے گریجوئیٹ ذیشان علی خان کو ایک کمپنی نے یہ کہہ کر نوکری دینے سے انکار کر دیا کہ “وہ صرف غیر مسلم امیدواروں کو ہی ملازمت پر رکھتے ہیں۔”
۲۵ اگست: منگلور میں ایک لڑکے شاکر کو مبینہ طور پر بجرنگ دل کے کارکنوں نے کھمبے سے باندھ کر بے رحمی سے پیٹا اور اس کے کپڑے تار تار کردیے۔ اس کا قصور یہ تھا کہ اس نے ایک غیر مسلم لڑکی سے بات کی تھی۔
۳۱ اگست: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے جشن طلائی کے موقع پر نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری کے خطاب پر دائیں بازوں کی تنظیموں نے ہنگامہ برپا کردیا۔ جناب انصاری نے اپنے خطاب میں سچر کمیٹی رپورٹ کا حوالہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمانوں کی سماجی معاشی حالت ملک کی پسماندہ ترین درج فہرست ذاتوں اور قبائل سے بھی ابتر ہے۔ ان کی بہبود کے لیے سرکاری سطح پر اثباتی اقدام، فیصلہ سازی اور حکومتی مراعات میں مساوی حصہ داری کے علاوہ تعلیم اور ایمپاورمنٹ کے لیے بھی مساعی کی ضرورت ہے جس میں ملی تنظیموں کو بھی اپنا حصہ ادا کرنا ہوگا۔ وی ایچ پی اور سنگھ پریوار نائب صدر کی باتوں پر سخت چیں بہ جبیں ہیں اور ان سے استعفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
۲ ستمبر: دہلی کی میونسپل کونسل نے یہاں واقع بمشکل نصف کلومیٹر طویل اورنگ زیب روڈ کا نام تبدیل کرکے عبدالکلام روڈ رکھ دیا ہے۔ اس سے پہلے بھی اس روڈ کا نام تبدیل کرنے کی کئی بار کوشش کی گئی تھی۔ دسمبر ۲۰۱۴میں وزارت داخلہ کے ایک نوٹس کے مطابق تاریخی شخصیات کے نام پر عمارات اور سڑکوں کا نام تبدیل کرنا قانونی پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔
۳ ستمبر: مردم شماری کے ڈیموگرافک اعداد و شمار کے منظر عام پر آتے ہی سنگھ پریوار اینڈ کمپنی نے یہ تأثر دینا شروع کردیا گویا مسلمانوں کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کے پیروؤں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہی نہیں اور ایک مخصوص مذہب کی بقا کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ پروین توگڑیا اور ساکشی مہاراج نے اسے نہ صرف “آبادی کا جہاد” قرار دیابلکہ دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے والے مسلمانوں کو قرار واقعی سزا دلوانے کی سفارش کر ڈالی اور انہیں روزگار، ریزرویشن اور دیگر سرکاری مراعات سے بھی محروم کرنے کی اپیل کی ہے۔ توگڑیا کے مطابق “مسلمانوں کی منصوبہ بند شرح افزائش ایک سوچی سمجھی سازش ہے اور اگر ہم اس آبادی کے جہاد کے خلاف نہ کھڑے ہوئے تو بھارت جلد ہی اسلامی ریاست میں تبدیل ہو جائے گا۔” لیکن توگڑیا جی اعداد و شمار سے یہ تجزیہ نہیں کر پائے کہ اگرچہ مسلمانوں کی شرح نمو ہندوؤں سے قدرے بہتر رہی لیکن یہ بھی واقعہ ہے کہ مسلمانوں کی شرح نمو ۱۹۵۱ کے بعد کم ترین سطح پر تھی۔
***
یہ کیلنڈر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کاہے جس کے طرز حکومت میں سیکولر اقدار اور مذہبی آزادی طرۂ امتیاز تصور کی جاتی ہیں۔ جہاں پر مسلمانوں کی آبادی، انڈونیشیا کے بعد، پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ جس ملک نے گوتم، نانک اور گاندھی جیسے مایہ ناز سپوت پیدا کیے جنہوں نے دنیا کو وحدت، اخوت اور امن کا درس دیا۔ محبت اور آشتی کے اس گہوارے میں متذکرہ بالہ واقعات کسی سانحہ سے کم نہیں۔ لیکن افسوس یہ سانحات ہندوستان کے روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔
آئے دن فرقہ ورانہ فسادات، جلتے ہوئے مکانات، جھلستی ہوئی لاشیں، ماتم کناں عورتیں اور بچے، شہید ہونے والی مساجد، مسلمانوں کی عام بیچارگی، افلاس اور بے روزگاری، مسلم نوجوانوں پر پولیس کی بربریت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ، دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات، بے گناہوں کی تعزیر کا لامتناہی سلسلہ، اخبار، ٹیلی وژن اور الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں اسلام اور اہل اسلام سے متنفر کرنے والے پروگرام اور بیانات، ملت کو تعلیمی اور معاشی سطح پر پسماندہ رکھنے کا منظم منصوبہ، ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی جانب سے مسلمانوں کو گھر فروخت نہ کرنے کا غیر محررہ اصول پھر خواہ وہ کوئی مشہور ہستی ہی کیوں نہ ہو، سیاست، فوج، سرکاری نوکریوں اور زندگی کے تمام شعبوں میں آبادی کے تناسب سے انتہائی کم نمائندگی—یہ تمام باتیں کسی نہ کسی شکل میں اس سماجی عارضہ کا مظہر ہیں جسے اسلاموفوبیا کہتے ہیں۔
عالمی سطح پر صورت حال اور بھی خراب ہے۔ فلسطین، چیچنیا، کوسوو، میانمار، چین، عراق، افغانستان، لیبیا، شام، سوڈان وغیرہ پر استعماری قوتوں کا جبر؛ فرانس، بیلجیم اور دیگر یوروپین ممالک میں حجاب پر پابندی؛ سوئٹزرلینڈ میں ریفرینڈم کے ذریعے مساجد کے میناروں پر پابندی؛ چین میں روزہ رکھنے پر حکم امتناعی، ڈنمارک اور فرانس میں پیغمبر اسلام کے دل آزار اور اہانت آمیز خاکوں کی اشاعت؛ امریکہ میں آئے دن مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے تشدد اور امتیاز کے واقعات؛ اسلام مخالف لٹریچر اور قلم کاروں کا ادبی انعامات سے سر فراز کیا جانا اور انہیں آزادیٔ اظہار کا چیمپین قرار دینا؛ ان تمام باتوں کے پس پردہ اسلام دشمنی اور مسلمانوں کی دل آزاری کا جذبہ کار فرما ہے۔
اسلاموفوبیا کیا ہے؟
اسلامو فوبیا کی اصطلاح کا استعمال سب سے پہلے برطانیہ کے ایک ادارے رنیمیڈ ٹرسٹ نے کیا۔ ۱۹۹۷ میں اس ادارے نے ایک رپورٹ شائع کی جس کا عنوان تھا: اسلامو فوبیا سب کے لیے ایک چیلنج۔ رپورٹ میں اسلاموفوبیا کی تعریف مسلمانوں کے تئیں ایک ایسے غیر منطقی رویے اور بے جا ناپسندیدگی کے جذبے کے طور پر کی گئی ہے جس کے نتیجے میں ان سے تعصب، امتیاز اور عدم شمولیت کے جذبات کو فروغ ملتا ہے۔ یہ معاشی، معاشرتی اور عوامی زندگی کا رویہ ہے اور اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ذریعے اسلام کے تعلق سے یہ رائے قائم کر لی جاتی ہے کہ دوسرے گروہوں اور ثقافتوں کے ساتھ اسلام کی کوئی قدر مشترک نہیں ہے اور یہ کہ اسلام ایک مبنی بر تشدد سیاسی نظریہ ہے۔
رنیمیڈ ٹرسٹ کے مطابق اسلاموفوبیاکوئی ایک خوف نہیں بلکہ بہت سے دیگر خوفوں کا مجموعہ ہے۔ متذکرہ رپورٹ کے مدیر رچرڈسن رابنسن کے مطابق “اسلاموفوبیا ایک سنگین ذہنی کیفیت ہے جس کے ذریعے ایک مخصوص گروہ کو اس کا نشانہ بنایا جاتا ہے جب کہ نشانہ بننے والے دفاعی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔ جب خود اس رویہ کا حامل فرد اسلام اور مسلمانوں کے موقف کو سمجھنے کی پوری ذمہ داری سے خود کو بری سمجھتا ہے اور اپنی رائے میں تبدیلی کو غیر ضروری قرار دیتا ہے۔ اسلاموفوبیا تمام مذاہب سے نفرت کرنے والے افراد اور اسلام کے ماننے والوں سے معاندانہ رویہ رکھنے والے افراد میں تمیز کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔” رچرڈسن کے مطابق اسلاموفوبیا کی اصطلاح کی موزوں تعریف متعین کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ (رچرڈسن رابنسن - Islamophobia or anti-Muslim racism or what)
رنیمیڈ ٹرسٹ نے اسلام کے تعلق سے “کھلے” اور “بند” ۸ نظریات کا موازنہ کیا ہے جنہیں اسلاموفوبیا کے نفسیاتی رویہ کی علامت قرار دیاہے۔ چند کا ذکر ذیل میں کیا جاتا ہے:

  • یہ ماننا کہ اسلام ایک یک سنگی (monolithic)، یکسانیت کا حامل اور جامد مذہب ہے اور کسی قسم کی تبدیلی اور نئے نظریات کو قبول نہیں کرتا۔ 
  • یہ سمجھنا کہ اسلام علیحدگی پسند اور اجنبی (other) ہے، دوسری ثقافتوں کے ساتھ اس کی کوئی قدر مشترک نہیں ہے اور نہ یہ خود دوسروں سے کوئی اثر قبول کرتا ہے۔
  • اسلام کو مغرب سے کم تر سمجھنا، اسے بربریت. و نامعقولیت کا حامل قرار دینا اور یہ ماننا کہ یہ ماقبل تہذیب (primitive) مذہب ہے اور صنفی امتیاز روا رکھتا ہے۔
  • یہ ادراک کہ اسلام تشدد پسند، خطرناک مذہب ہے اور دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے۔ نیز دیگر تہذیبوں کے ساتھ اس کی ازلی آویزش ہے۔
  • اسلام سے عناد کو مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویے اور انہیں معاشرہ سے الگ تھلگ رکھنے کے جواز کے طور پر پیش کرنا۔
  • مسلم مخالف رویوں کو فطری اور معمول کے مطابق قرار دینا۔

مذکورہ بند نظریات کا موازنہ کھلے نظریات کے ساتھ کیا گیا جس کی بنیاد اسلام کے احترام، جائز اختلافات، افہام و تفہیم اور تعمیری تنقید پر ہے۔
یوروپ میں جب نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا اور علمی روشن خیالی کی فضا استوار ہوئی تو علمی حلقوں میں چرچ سے عام بیزاری کی فضا پیدا ہو گئی۔ جدت پسندی اور روشن خیالی کے زیر اثر خود عیسائت کا وجود خطرے میں پڑنے لگا۔۔ تھامس ہینک کے مطابق صلیبی جنگوں میں عیسائیت مسلمانوں کے خلاف برسرپیکار تھی تاہم جب نشاۃثانیہ کے دور میں عیسائیت کی نئی شناخت قائم ہوئی تو اسلام دشمنی دب گئی لیکن تب بھی صلیبی ذہن زندہ رہا۔ ۱۴۵۳ میں جب عثمانیوں نے قسطنطنیہ فتح کرلیا تو اسلام سے عناد کا جذبہ پھر ابھارا گیا۔ مسلمانوں کے خلاف صلیبی ذہنیت کی معاندانہ روش ختم ہونے کے بجائے یوروپ کی سیاسی اور علمی سرگرمیاں  ہمیشہ بیدار رہیں ۔ یہی وہ سیاسی عناد اور مخالفت ہے جو ہمارے دور میں بھی فعال اور زندہ ہے ۔ ایڈورڈ سعید کے مطابق اسلام اور عالم عرب سے مخالفت مغربی ذہن کا بنیادی عنصر رہا ہے۔ اسلام کے خلاف نفرت کے مشترکہ جذبات سے ہی ان میں باہمی اتحاد اور شناخت کا جذبہ پیدا ہوا۔
۹/۱۱ کا امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا ۔ اس حملے کو فوری طور پر مسلمانوں سے جوڑ دیا گیا۔  جارج بش کا یہ اعلان کرنا کہ ہم صلیبی جنگ کا آغاز کریں گے، دراصل ان عزائم اظہار تھا جن کے لیے صلیبی اور صیہونی تحریکیں عرصہ دراز سے دنیا کو اسلام کے خلاف رائے بنانے کی کوشش میں مصروف تھیں۔ مسلسل دنیا کی ذہن سازی اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کی کوششیں بالآخر بارآور ہوئیں۔ مسلمانوں پر جنگ مسلط کردی گئی ۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کو خونخوار، دہشت پسند، اور امن عالم کے لیے خطرہ کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔ جب کسی شے کو خوف ناک بنا کر پیش کیا جائے گا تو یقیناً اس کا خوف دل میں بیٹھ جائے گا۔ امریکی مصنف ناتھن لین کے مطابق امریکہ میں اسلاموفوبیا ایک لاکھوں ڈالر کی انڈسٹری کی طرح ابھرا جس سے امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کے سیاسی و معاشی مفادات وابستہ ہیں۔
ہنٹنگٹن کے مطابق “مغرب کے لیے اصل مسئلہ اسلامی بنیاد پرستی کا نہیں بلکہ خود اسلام کا ہے جو ایک اجنبی تہذیب ہے۔” اس کے مطابق مسلمان کبھی بھی مغربی تہذیب میں جذب نہیں ہو سکتے۔ امریکی قدامت پسند ارونگ کرسٹول لکھتا ہے کہ “اشتراکیت کے بعد مغرب کو ایک ایسے دشمن کی ضرورت ہے جس کے نام پر وہ اس انحطاط کو روک سکے جو لبرل ازم سے پیدا ہو رہا ہے۔" مغرب کے لیے اسلام ہی وہ دشمن ہے ، جو نہ صرف اس کا تہذیبی حریف ہے بلکہ سیاست ، معاشرت اور معیشت کا متبادل نظام رکھتا ہے۔
کسی بھی ملک میں اظہار رائے کی بےلگام آزادی کی اجازت نہیں ہے۔ کوئی بھی ملک ہتک عزت، دشنام طرازی، اہانت، فحش کلامی اور نفرت پھیلانے کی آزادی نہیں دیتا اور اس کے لیے قوانین موجود ہیں۔ یوروپی معاشرہ میں آزادیٔ رائے کا حق نا قابل تنسیخ ہے لیکن اس کے بھی حدود مقرر ہیں اور ان کے تجاوز کرنے پر قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے۔ ماضی میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ یوروپین ممالک مثلاً جرمنی، فرانس، اسپین، ہالینڈ، آسٹریا، بیلجیم وغیرہ میں دوسری جنگ عظیم کے موقع پر یہودیوں کے قتل عام (holocaust) کے خلاف لکھنا ،اس کی تردید کرنا اور اس کی تفصیلات شائع کرنا جرم ہے۔ ہولوکاسٹ کی تردید کرنے والے عالمی شہرت یافتہ مصنف ارنسٹ زنڈل (Ernst Zündel) کو ۲۰۰۵ میں کینیڈا سے نکال دیا گیا تھا۔ جرمنی میں اس پر 14 الزامات عائد کیے گئے اور 5 برس کی قید کی سزا سنائی گئی. برطانوی مورخ ڈیوڈ ارونگ کو ۲۰۰۶ میں آسٹریا کی عدالت نے دوسری جنگ عظیم کی تاریخ لکھنے کی پاداش میں ۳ سال کی قید کی سزا سنائی۔ برطانوی عدالت نے ایک پادری کو ۱۲۰۰۰ پونڈ کا جرمانہ عائد کیا تھا کیونکہ اس نے ہولوکاسٹ کا انکار کیا تھا۔ دوسری طرف اسلام اور مسلمانوں کی خلاف لکھنا اور ان کی ہرزہ سرائی کرنا نیز رسول اللہ ﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کرنا آزادیٔ رائے کے نام بلا خوف تعزیر انجام دیے جاتے ہیں۔ ناقدین نے مغرب کے اس دوہرے معیار کی نشان دہی کی ہے کہ ایک طرف تو یہ ممالک یہودیت اور عیسائیت کے تحفظ کے قانون بناتے ہیں اور دوسری طرف اسلام کے خلاف دشنام طرازی پر خاموش رہتے ہیں۔
ہندوستان میں مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان سے استحصال سے نجات، ترقی ، انصاف اور حکومتی مراعات میں حصہ کے نام پر ووٹ بٹورے جاتے ہیں۔ لیکن جب حکومتیں اپنے وعدے پورے کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو مسلمانوں کی منہ بھرائی کے نام پر ان کا ہاتھ روک دیا جاتا ہے۔ اسلاموفوبیا بھی انتخاب میں کامیاب ہونے کے لیے ایک کارگر نسخہ ثابت ہوتا ہے۔ سادھوی نرنجن جیوتی، ورون گاندھی، ساکشی مہاراج ، یوگی آدتیہ ناتھ اور نہ جانے کتنے ہی نیتاؤں نے اس نسخے کا استعمال انتخابات کی کامیابی کے لیے کیا ہے۔ سرکاری اور نجی ملازمتوں میں مسلمانوں سے تعصب اور امتیاز کا سلوک نئی بات نہیں ہے۔ خود سرکاری طور پر کمیشن کی گئی سچر کمیٹی رپورٹ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ امتیاز کیا جاتا ہے۔ سچر کمیٹی کے مطابق سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب جس ریاست میں سب سے زیادہ ( 11.2فی صد) وہ آسام ہے جو ریاست کی مسلم آبادی30.9 ) فی صد) کے نصف سے بھی کم ہے۔ مغربی بنگال جہاں ایک عرصہ تک کمیونسٹوں کی حکومت رہی ہے جو ہمیشہ مساویانہ معاشرے کا راگ الاپتے رہتے ہیں وہاں پر مسلمانوں کا سرکاری ملازمت میں حصہ محض 4.2 فی صد ہے۔ سچر کمیٹی کے اس نتیجے کا محض حوالہ دینا کہ مسلمان درج فہرست ذاتوں اور قبائل سے بھی پسماندہ ہیں، نائب صدر جمہوریہ جیسی اہم شخصیت کے لیے قابل اعتراض ٹھہرا اور ان پر ہر چہار جانب سے تنقیدوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ گویا مسلمانوں کے حقوق کی بات کرنا بھی اب گوارا نہیں کیا جائے گا خواہ بولنے والا اس ملک کا صدر یا نائب صدرہی کیوں نہ ہو۔ ہندوستان میں اسلاموفوبیا اس مرحلے میں ہے جسے دانشوروں نے تکویری ماڈل (circular model)سے تعبیر کیا ہے۔ جب اسلاموفوبیا کے اثرات سے ملک میں مسلمانوں کی حالت تشویشناک ہو جاتی ہے تو حکومت کچھ تدابیر اور منصوبے اختیار کرتی ہے (بعض اوقات منصوبے بھی سیاسی بے عملی اور تنقید کے سبب ٹھنڈے بستے میں چلے جاتے ہیں)، کچھ نئی ہدایات جاری کرتی ہے ۔ اور جب ان کی بنیاد پر مسلمانوں کی حالت میں بہتری کی کچھ صورت پیدا ہونے کی سبیل نظر آتی ہے تو اسلاموفوبیا کو مسلمانوں کی منہ بھرائی کے نام پر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا ہے۔
یہ بات عیاں ہے کہ ہندوستانی میڈیا پر ایسے لوگوں کا تسلط ہے جو اسلاموفوبیا کو خوب استعمال کرنا جانتے ہیں۔ گذشتہ عشرے میں پرنٹ اور الیکٹرانک  میڈیا کو خاصا فروغ ملا ۔ خبروں کے تقریباً ۴۰۰ چینل وجود میں آئے۔ ان میں سے معدودے چند نام نہاد مین اسٹریم چینل مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی پر کمر بستہ ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام اور مسلمانوں کی ایک لگی بندھی تصویر ہے ، وہ یہ کہ اسلام وحشیانہ اور جامد مذہب ہے، غیر منظقی ہےفرسودہ ہے، ترقی کا دشمن ہے۔ مسلمان عام طور پر دہشت پسند، جنس گزیدہ، غلیظ اور دقیانوس ہوتے ہیں، وہ خواتین کو پردے کی قید میں رکھتے ہیں، ہر مسلمان کی ایک سے زائد بیویاں ہوتی ہیں، طلاق ثلاثی کی تلوار ہر مسلمان عورت پر لٹکتی رہتی ہے۔مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے، دنیا میں جہاں کہیں مسلمان اگر اپنے حقوق کے لیے بھی برسرپیکار ہیں تو وہ دہشت گردی کی علامت ہیں۔ قرآن میں تشدد کی تعلیم دی گئی ہے، اسلام تلوار سے پھیلا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ القاعدہ، انڈین مجاہدین، سیمی، حرکت الجہادالاسلامی، آئی ایس آئی، جیش محمد، لشکر طیبہ، حزب التحریر، داعش اور نہ جانے کتنی ہی حقیقی یا موہوم تنظیموں پر نا معلوم جگہوں پر تیار کی گئیں ڈاکیومنٹریز دکھائی جاتی ہیں اور ان کی حرکتوں کو تمام عالم اسلام اور مسلمانوں سے جوڑ کر دکھایا جاتا ہے۔ مسلم سماجی مسائل پر مباحث یا تو شاذ ہی ہوتے ہیں یا پھر غلط فہمیوں کو مزید ہوا دینے کے لیے انہیں بلا موقعہ و محل پیش کیا جاتا ہے۔ ایسے مباحث میں مسلم نقطہ نظر کی وضاحت کے لیے ایسے لوگوں کو بلایا جاتا ہے جو متعلقہ موضوع کے بارے میں مطالعہ نہیں رکھتے یا پھر اس طریقے سے دلائل پیش کرتے ہیں کہ اسلام کی جگ ہنسائی کا سبب بن جاتے ہیں۔ اس پر مستزاد پروگرام کا اینکر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ متوازن نقطہ نظر پیش کرنے والے نہ بول پائیں۔ دہشت گردی کے ہر واقعہ کا میڈیا ٹرائل ہوتا ہے اور میڈیا ہی فیصلہ کر دیتا ہے کہ یہ کس تنظیم کا کام ہے۔ فسادات کے موقع پرمیڈیا کا عدم توازن آشکارہو جاتا ہے۔ مسلمانوں پر جبر و ظلم کے واقعات پر کوریج شاذ ہی دیا جاتا ہے۔
بعض ٹی وی چینل اور صحافی اس سے مستثنٰی بھی ہیں۔ گجرات اور مظفر نگر کا سچ ایسے ہی صداقت پسند صحافیوں اور سماجی کارکنوں کا رہین منت ہے، جن میں کلدیپ نیر، آشیش کھیتان، شوما چودھری، سدھارتھ وردھراجن، سوامی اگنی ویش، ہرش مندر، اروندھتی رائے، رویش کمار، راجدیپ ساردیسائی اور انہیں جیسے بے شمار صحافی اور سماجی کارکنان کے نام قابل ذکر ہیں جنہوں نے پیشے کی صداقت اور معروضیت کو حرزجان بنایا ہے۔ حقیقیت تو یہ ہے کہ حکمران طبقہ کو اپنی من مانی کرنے سے روکنے میں میڈیا کا یہی طبقہ پیش پیش ہے۔
حل کی تدابیر:
اسلاموفوبیا کے عفریت نے گذشتہ عشرے میں پوری دنیا کو اپنے پنجہ استبداد میں دبوچ رکھا ہے ۔ یوں تو حق و باطل کے درمیان آویزش ازل سے ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ حق کے خلاف باطل کی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ یوں ہی تا قیامت جاری رہے گا۔صدر اسلام میں بھی یہ فوبیا موجود تھا جب دارالندوہ میں مکہ کے سردار سر جوڑ کر بیٹھتے تھے کہ کس طرح اللہ کے رسول ﷺ اور اسلام کو بدنام کیا جائے اور اس کی اشاعت کو روکا جائے۔ وقت کے رسول کو شاعر اور کاہن تک کہا گیا اور عرب کے قبیلوں میں یہ بات پھیلائی گئی کہ مکہ میں ایک جادوگر ہے جو اس کے زیر اثر آجاتا ہے وہ اپنے آبائی دین کا نہیں رہتا اور اپنے خاندان سے کٹ کر اسی کا ہو رہتا ہے۔ اس کے پاس ایسی چیز ہے جو ماں، باپ، میاں ، بیوی اور بھائیوں کے درمیان تفرقہ پیدا کر دیتی ہے۔ آج کے تناظر میں یوروپی اور امریکی اقوام اسلام کا ہوا کھڑا کر کے یہ کہہ رہی ہیں کہ اگر اسلامی نظام آگیا تو جمہوریت، آزادی اور تہذیب حاضر کی ساری چمک دمک جاتی رہے گی۔
ظاہر ہے اس پروپیگنڈا کا واحد حل وہی ہے جو صدر اول میں تھا وہ ہے اسلام کی دعوت اور اسلام کے تعلق سے غلط فہمیوں کا ازالہ۔ اسلام کے خلاف تمام نفسیاتی خدشوں کا تدارک خود مسلمانوں کے اپنے عمل میں مضمر ہے۔ مشتعل ہونے اور جارحیت کا جواب جارحیت سے دینے میں نہ صرف اغیار کے پروپیگنڈے کو تقویت ملتی ہے بلکہ اس سے خود اسلام کو زک پہنچتی ہے۔
لہٰذا مسئلہ کے حل کے لیے ہمیں ملی مسائل کے حل کی کوشش کرنی ہوگی۔ مسلکی اختلافات اپنی جگہ، لیکن معاملات زندگی اور مشترکہ مسائل کے سلسلہ میں تو مسلمان ایک دوسرے کے معین بنیں۔ سیاسی بیداری، تعلیمی ترقی، مسلمانوں کا معاشی استحکام اس سلسلے کے اہم کام ہیں جن کے لیے ہمارے دانشوروں کو، صرف علما کو نہیں بلکہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے اہل علم اور پروفیشنلز کو، آگے آنا ہوگا۔
خارجی چیلنجوں میں سب سے بڑا چیلنج میڈیا کا ہے۔ میڈیا پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ہمیں ایسے افراد کی تیاری کرنی ہوگی جو میڈیا کے پروپیگنڈا کا فوری اور شافی جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مسلمانوں کو حتی الوسع اپنے اخبارات نہ صرف اردو میں بلکہ انگریزی اور دیگر علاقائی زبانوں میں شائع کرنے ہوں گے۔ میڈیا میں سیکولر ذہن کے افراد سے گہرا ربط ضبط پیدا کرنا ہوگا اور ان سے اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیے انسانی بنیادوں پر تعاون لینا ہوگا۔ اسلاموفوبیا کے واقعات سے مشتعل ہونے کے بجائے ان پر مناسب قانونی چارہ جوئی کی راہ تلاش کرنی ہوگی اور اس کام کے لیے دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کا تعاون بھی لینا ہوگا۔
اس کے علاوہ اسلام کی ان تعلیمات کو عام کرنا ہوگا جو موجودہ مسائل کا حل پیش کرتی ہیں۔ مثلاً خاندانی نظام کا بکھرتا ہوا شیرازہ، انسانی حقوق، اسلام کا تصور عدل، تصور رحمت، ماحولیات کے تعلق سے اسلام کی تعلیمات وغیرہ۔ دور حاضر کے مسائل کے بنیادی اسباب مثلاً سود، جوا، جمع خوری، نسل پرستی، اباحیت وغیرہ پر تحریکات چلانی ہوں گی اور اس میں برادران وطن کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ ملت کے فلاحی اداروں سے برادران وطن کے ضرورت مندوں کی بھی اعانت کو فروغ دینا ہوگا۔ غیر مسلم تنظیموں کے ساتھ مشترکہ اقدار پر مل کر کام کرنا ہوگا ۔  کانفرنسیں اور سیمینار کرنے ہوں گے اور مسائل کے سلسلہ میں ایک علمی اور عملی فضا پیدا کرنی ہوگی۔
قرآن حکیم میں اللہ تعالی کا ارشاد اس تاریکی میں امید کی کرن ہے: ولا تهنوا ولا تحزنوا وأنتم الأعلون إن كنتم مؤمنين (تم نہ تو کمزور پڑو اور نہ غم کرو۔ اگر تم ایمان پر ثابت قدم رہے تو تمہیں غالب رہوگے۔ )
کتابیات:
ناتھن لین۔ The Islamophobia Industry: How the right manufactures fear of Muslims، پلوٹو پریس، ۲۰۱۲۔
اسلامی فقہ اکیڈمی۔مجلہ: اقلیتوں کے حقوق اور اسلاموفوبیا، ایفا پبلیکیشنز، ۲۰۱۲۔ (زیر نظر تحریر کی تیاری کے لیے اس مجلہ سے استفادہ کیا گیا ہے۔)
رنیمیڈ ٹرسٹ۔ Islamophobia A challenge for us all، لندن، ۱۹۹۷۔

2014/10/20

غزل: "آج کچھ درد میں کمی سی ہے"

دل کو پھر ایک بے کلی سی ہے
ہم کو پھر آپ کی کمی سی ہے

2014/10/18

نوبیل امن انعام کی سیاست


اکتوبر ۲۰۱۲ کی  ایک سہانی دوپہر ہے۔ شمالی وزیرستان میں ایک آٹھ سالہ بچی نبیلہ رحمان اپنے بھائی بہنوں اور دادی کے ساتھ کھیت میں کام کر رہی ہے۔عید الاضحی  قریب ہے۔ نبیلہ کی دادی اپنے پوتے پوتیوں کو کھیت سے بھنڈی چننا سکھا رہی ہے۔ کسے خبر تھی کہ آج ایک ایسا اندوہناک سانحہ ہونے والا ہے  جو اس ہنستے کھیلتے خاندان کی زندگی کا دھارا بدل کے کھ دے گا۔ ناگہاں بچوں کو آسمان میں ایک مخصوص گونج سنائی دیتی ہے۔ یہ امریکی ڈرون ہے،  ایک ننھا سا مسلح طیارہ،  جس کی گونج اس خطے کے باشندوں کے لیے روزمرہ کا معمول بن چکی ہے۔  یہ ڈرون ہر وقت فضاؤں  میں لوگوں کے تعاقب میں منڈلاتے رہتے ہیں۔ لوگ بھی ان پر اب زیادہ توجہ نہیں دیتے کہ یہ عام شہریوں کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں ہیں۔
 مگر یہ کیا؟
  اچانک  ڈرون سے ہلکی سی کلک کی آواز آتی ہے اور اس سے نکلنے والے گولے نبیلہ اور اس کے بھائی بہنوں پر برسنے لگتے ہیں۔ حیرت اور دہشت کی ملی جلی کیفیت میں نبیلہ کو اس کے سات بھائی خاک اور خون میں غلطیدہ نظر آتے ہیں۔ نبیلہ کی ضعیف دادی اس کی آنکھوں کے سامنے دم توڑ دیتی ہے۔

بھرا پرا کنبہ بکھر جاتا ہے۔ اس حادثے پر آج تک سی آئی اے اور امریکہ کی طرف سے کوئی معذرت، ہرجانہ یا توجیہہ نہیں پیش کی گئی ۔ نبیلہ کے ننھے سے ذہن میں ایک ہی سوال ہے۔ آخر کیوں؟ کس جرم میں اس کے معصوم بھائیوں اور دادی پر حملہ کیا گیا؟

دو سال بعد، اکتوبر ۲۰۱۴ میں، نبیلہ یہی سوال لیے اپنے ٹیچر والد اور بارہ سالہ بھائی کے ہم راہ امریکہ کا رخ کرتی ہے۔ اسے امید ہے کہ یہاں اس کی شنوائی ضرور ہو گی۔ لیکن  افسوس ان کی توقع کے برعکس انہیں ہر سطح پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ نہ میڈیا ان کو کوریج دیتا ہے اور نہ اربابِ حکومت  ہی ان کی بات پر کان دھرتے ہیں۔ آخر کار امریکی کانگریس کی ایک مجلس میں نبیلہ کے کنبے کو اس واقعہ کی  شہادت کے لیے تاریخ مل ہی جاتی ہے ۔ اس مجلس میں ۴۳۰ ارکان  کی شرکت متوقع تھی ۔ مگر محض ۵ لوگ حاضر ہوتے ہیں۔ نبیلہ  کے والد ان سے کہتے ہیں کہ انہوں نے اتنی صعوبتیں جھیل کر امریکہ کا سفر محض  اس لیے کیا ہے کہ بحیثیت ٹیچر وہ امریکیوں کو بتا سکیں کہ ان کے بچے اور ان کی والدہ کوئی دہشت گرد نہیں تھے ، اور نہ ہی وہ دہشت گردوں جیسے نظر آتے تھے ۔ اس قسم کے سینکڑوں واقعات اس خطے میں ہوتے رہتے ہیں ، جنہیں  یکسر بند ہونا چاہیے۔

اب ایک اور منظر ملاحظہ کیجیے۔

نبیلہ اور اس کے کنبے پر حملے سے محض دو ہفتے پہلے، یعنی اوائل اکتوبر ۲۰۱۲ کی ایک دوپہر،سوات  کی گل پوش وادی سے ایک پرائیویٹ اسکول کی وین بچوں کو لیے اسکول سے واپس ہو رہی ہے ۔  اچانک  ایک موڑ پر چند نقاب پوش وین کو روکتے ہیں اور اس میں سوار ہو جاتے ہیں۔ یہ طالبان ہیں جو خطے میں لڑکیوں کی تعلیم کے مخالف ہیں اور اسکولوں کو بند کرنا ان کا مشغلہ ہے ۔ ان میں سے ایک نقاب پوش اپنی گن لہراتا ہوا غراتا ہے: "تم میں سے ملالہ کون ہے۔ " تمام  بچیاں  سہم جاتی ہیں، اور ایک ۱۵ سالہ بچی کی طرف دیکھنے لگتی ہیں جو بس میں سوار واحد ایسی  بچی ہے جس نے نقاب نہیں اوڑھ رکھا ہے۔ طالبان سمجھ  جاتا ہے کہ یہی ملالہ ہے۔ وہ اپنی کولٹ ۴۵ ریوالور سے بچی پر تین فائر کرتا ہے ۔ ایک گولی آنکھ کے قریب سے گزرتی ہوئی گلے میں لگتی ہے۔ ملالہ اپنے سہیلی منیبہ کے اوپر گرتی ہے۔ دو گولیاں  اس کی ہمجولیوں  کو  بھی لگ جاتی ہیں۔ کائنات ریاض کا شانہ اور شازیہ  رمضان کا  ہاتھ زخمی ہو جاتا ہے۔  طالبان ملالہ کو مردہ سمجھ کر وین سے اتر جاتے ہیں۔  ملالہ اور اس کی ساتھی سہیلیوں کو فوراً   قریبی ہسپتال پہنچایا جاتا ہے۔ ملالہ کی حالت بہت نازک ہے۔  یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔  ریڈیو اور ٹی وی طالبان کی اس جارحیت پر چیخنے لگتے ہیں۔ اخباروں میں اداریے لکھے جاتے ہیں۔ اسمبلیوں میں اس حملے کی مذمت کی جاتی ہے۔ دنیا بھر کی انسان دوست تنظیمیں  اپنے مذمتی بیان جاری کرتی ہیں۔ پاکستان، امریکہ  اور یوروپ  ہر جگہ ملالہ کا تذکرہ ہے اور اس کی زندگی کے لیے   اجتماعی دعائیں کی جاتی ہیں اور شمعیں جلائی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ امریکی صدر اوباما اپنے مشیروں سے کہتے ہیں کہ ملالہ کو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ ملالہ کو خصوصی طبی امداد پہنچائی جاتی ہے۔ اسے پیشاور کے ہسپتال سے ائر لفٹ کرکے لندن پہنچایا جاتا ہے  جہاں  برمنگھم کے ایک ہسپتال میں اس کا بہترین ڈاکٹروں کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے۔ اور، حیرت انگیز طور پر  ملالہ  وہاں تیزی سے رو بہ  صحت ہو نے لگتی ہے۔

اس واقعہ کے بعد ملالہ یوسف زئی بہادری اور جرأت کی نئی علامت کے طور پر ابھرتی ہے۔  تاہم مغرب کے لیے اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وہ طالبان مخالف ہے۔ اسے امریکہ اور مختلف ممالک سے ۳۴ مختلف اعزازات سے نوزا گیا۔اقوام متحدہ  نےعالمی تعلیم اطفال کے لیے ۲۰۱۳ سے ملالہ ڈے منانے کی تجویز پیش کی۔ اور اس سال کے نوبیل امن انعام  کے لیے مشترکہ طور  ملالہ یوسف زئی اور ہندوستان کے کیلاش ستیارتھی کے نام کا اعلان کیا گیا ہے۔۱۷ برس کی عمر میں ملالہ  دنیا کی سب سے کم عمر نوبیل انعام یافتہ ہے۔ اس سے پہلے یہ اعزاز ۳۲ سالہ یمنی صحافی و سیاست دان توکل کرمان کو حاصل تھا۔

کیلاش ستیارتھی کا تعلق مدھیہ پردیش کے ودیشہ ضلع سے ہے ۔ انہوں نے اپنا الیکٹریکل انجنیرنگ کا پیشہ ترک کرکے حقوق اطفال کے تحفظ کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا۔ وہ محض ۲۶ سال کے تھے جب انہوں نے بچپن بچاؤ آندولن کے نام سے ایک این جی او شروع کی اور انتھک جدو جہد اور مساعی کے بعد  اسے ایک عالمی سطح کی تحریک میں بدل دیا۔ اس تحریک کے ذریعے ہزاروں بچوں کو بندھوا مزدوری ، جبری مشقت اور بردہ فروشی سے نجات دلائی  گئی ہے۔ مختلف تنظیموں کے تعاون سے ستیارتھی نے بڑی کامیابی کے ساتھ متعدد فیکٹریوں اور گوداموں پر کامیاب چھاپے پڑوائےجہاں بچوں سے جبری مزدوری کروائی جاتی تھی۔  یہ ستیارتھی ہی تھے جنہوں نے 'رگمارک' جیسے منصوبے کو  کامیاب کیا۔ اس منصوبے کے تحت قالین کی صنعت سے منسلک اداروں کو تصدیق نامہ دیا جاتا ہے کہ ان کے قالین بنانے میں کسی بچے سے مزدوری نہیں کروائی گئی۔ یہ منصوبہ انتہائی کامیاب رہا اور بیرون ممالک میں بچہ مزدوری کے لیے حساسیت پیدا کرنے میں اس نے خاص رول ادا کیا۔ کیلاش ستیارتھی سے ایک بار پوچھا گیا کہ انہیں اس مشن کی تحریک کہاں سے حاصل ہوئی تو ان کا جواب تھا حضرت محمد ﷺ سے۔ پیغمبر اسلام ﷺنے  ہمیشہ غلاموں کے حقوق کا خیال رکھنے کی تلقین کی ہے اور انہیں آزاد کرنے کو بہت بڑی عبادت قرار دیا ہے۔

ستیارتھی کا کام ہندوستان تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ ۶۰ سے زیادہ ممالک میں ان کی تحریک فعال ہے۔ ۱۹۹۸ میں انہوں نے چائلڈ لیبر کے خلاف ایک عالمی مارچ شروع کیا جو ایشیا ، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک سے ہوتا ہوا جنیوا میں اختتام پذیر ہوا۔ ایک سال بعد بین الاقوامی محنت کشوں کی تنظیم (ILO) نے ایک  قرارداد پاس کی جس کی رو سے بین الاقوامی طور پر خطرناک پیشوں سے  منسلک بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کا معاہدہ کیا گیا۔ تاہم ستیارتھی بھی تنازعات سے بری نہیں ہیں۔ انہیں پراجیکٹ کرنے میں کچھ متنازعہ بین الاقوامی اداروں کے نام آرہے ہیں۔  اس کے علاوہ ستیارتھی اپنے کام کے باوجود ہندوستانی میڈیا کے لیے بھی ابھی تک گمنام سی شخصیت رہے ہیں۔ بچہ مزدوری کے خلاف سب سے پہلی مہم سوامی اگنی ویش نے اپنے بندھوا مکتی مورچہ کے  ذریعےچھیڑی تھی۔ ستیارتھی بھی  کبھی اس تنظیم کا حصہ تھے لیکن بعد میں ان سے الگ ہو کر اپنی نئی تنظیم شروع کرلی۔ فاربس میگزین کی میگھا بہر ی لکھتی ہیں کہ جب انہوں نے اس تنظیم کا دورہ کیا تو انہیں مختلف جگہوں پر لے جایا گیا جہاں سے بچوں کو 'بچایا' گیا تھا۔ ان کی تیز صحافیانہ نظروں نے تاڑ لیا کہ یہ محض غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرنے کا حربہ ہے۔ "جتنے زیادہ بچے دکھائے جائیں گے اتنی ہی زیادہ غیر ملکی اعانتیں حاصل ہوں گی۔" مدھو کِِشور کے مطابق ۱۲ سال پہلے امریکی اور جرمن تنظیموں نے ستیارتھی کی تنظیم کو ۲۰ لاکھ ڈالر کا تعاون دیا تھا۔

بایں ہمہ، ستیارتھی کا کام قابلِ ستائش ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے ہزاروں بچوں کو جبری مشقت سے نجات دلائی ہے۔ البتہ  ان کے حق میں نوبیل امن انعام کا اعلان خالص سیاسی فیصلہ ہے۔ نوبیل پرائز کمیٹی کے الفاظ اس بات کی کھلی چغلی کھا رہے ہیں: "نوبیل کمیٹی  کے نزدیک یہ امر اہم ہے کہ تعلیم کی خاطر اور تشدد کے خلاف ایک ہندو اور ایک مسلم، ایک ہندوستانی اور ایک پاکستانی، مشترکہ جدوجہد میں شامل ہوں۔" یہاں انعام یافتگان کے ملی و ملکی تشخص پر زور دینا سیاسی مصلحت سے خالی نہیں ہے۔

نوبیل پرائز کمیٹی کے چیئر مین ، تھور بیورن جیگ لینڈ (Thorbjorn Jagland) نے ان الفاظ میں ملالہ کوخراج عقیدت پیش کیا ہے: "اپنی کم عمری و نو خیزی کے باوجود، ملالہ کئی برسوں سے بچیوں کی تعلیم کی خاطر جدوجہد میں مصروف ہے اور اس نے اس بات کا نمونہ پیش کیا ہے کہ نو عمر لوگ بھی اپنے گردوپیش کے حالات بہتر بنانے میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اس نے یہ کام انتہائی خطرناک  اور ابتر حالات میں انجام دیا ہے۔ اپنی جرأت مندی کے باعث وہ تعلیم نسواں کی سربرآوردہ ترجمان  قرار پاتی ہے۔ " پاکستان کے وزیرِ اعظم نے اسے فخرِ پاکستان کہا۔ عمران خان نے بھی ، جو اس سے قبل  مغرب کی "ملالہ پسندی" پر تنقید کرتے تھے، ملالہ کو نوبیل انعام ملنے پر مبارک باد دی ہے۔  تاہم پاکستان کے عوام کا تأثر ملا جلا ہے۔ جہاں بعض لوگ اسے ستارہ جرأت مانتے ہیں ، وہیں  بعض  افراد اسے امریکہ کا ایجنٹ  بھی سمجھتے ہیں۔

ملالہ کو شہرت  اس پر حملےسے کئی برس پہلے مل چکی تھی۔ ۲۰۰۹ میں نیو یارک ٹائمز کی ایک ڈاکیومنٹری فلم میں ملالہ کو پروفائل کیا گیا تھا۔ ڈاکیومنٹری کا عنوان تھا ' کلاس ڈسمسڈ'۔ اس وقت ملالہ محض ۱۱ سال کی تھی۔  فلم میں ملالہ اوباما کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک سے ملاقات کرتی ہے اور یہ دکھایا گیا ہے کہ سوات میں طالبان کے خلاف آپریشن میں اس نے خاطر خواہ تعاون دیا ہے۔  ۲۰۱۱ میں ڈیسمنڈ ٹوٹو  نےملالہ کو بچوں کے عالمی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا تھا۔ یہ اعزاز ملالہ کو گل مکئی کے قلمی نام سے بی بی سی اردو میں بلاگنگ کرنے اور عالمی میڈیا کو خطے کے حالات سے باخبر کرنے میں اس کے تعاون کے اعتراف میں دیاگیا تھا۔  بہت سے لوگ تعجب کرتے تھے کہ آخر سات آٹھ سال کی بچی سیاسی ڈائریاں کیسے لکھ سکتی ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ بعد میں مختلف ذرائع سے یہ بات سامنے آئی کہ گل مکئی نے نہیں بلکہ بی بی سی کے نمائندے عبدالحئی  کاکڑ نے  یہ ڈائریاں لکھیں اور اس کے لئے ملالہ اور اس کے والد سے اجازت لینے کے ساتھ ان کو معاوضہ بھی ادا کیا گیا تھا۔

گل مکئی کے فرضی نام سے ملالہ نے  ۲۰۰۹میں بی بی سی پر ڈائری لکھنا شروع کی تھی ۔ ڈائری لکھنے کی وجہ اس کے  اسکول کا بند ہونا بتایا گیا ہے کہ طالبان نے اس کا اسکول بند کردیا تھا اور ملالہ کو اپنی تعلیم جاری نہ رکھنے کا بہت ملال تھا۔ یہاں یہ بات واضح کردی جائے کہ ملالہ یوسف زئی اپنے والد ضیاء الدین یوسف زئی کے اسکول 'خوشحال پبلک اسکول اینڈ کالج'  میں زیر تعلیم تھی اور اس اسکول کو نہ تو اس وقت تک دھمکیاں دی گئیں تھیں اور نہ ہی بند کیا گیا تھا اس لیے یہاں یہ بات غلط ثابت ہوئی کہ ملالہ کا اسکول بند ہوگیا تھا جس کے باعث اس نے ڈائری لکھنا شروع کی۔ ملالہ پر حملہ قابل مذمت ہے اور وحشت و بربریت کا کھلا ثبوت ہے لیکن ان ہزاروں بے گناہ اور معصوم  افراد اور بچوں کو کیوں فراموش کردیا گیا جن کے جسموں کے چیتھڑے ڈرون حملوں سے اڑائےگئے، جنہیں کفن اور جنازہ بھی نصیب نہ ہوا۔مگر ان کے لیے نہ کوئی آنکھ  روئی ، نہ دعا کے لیےکوئی ہاتھ اٹھا، نہ کسی اسمبلی میں قرار داد پاس کی گئی، نہ کوئی واک آؤٹ ہوا اور نہ شمعیں جلائی گئیں۔ ملالہ کی صلاحیتوں سے انکار نہیں ہے، لیکن پاکستان میں ایسے دسیوں بچے ہیں جو غیر معمولی طور پر ذہین ہیں، مضامین لکھتے ہیں اور ٹی وی پر بھی آتے ہیں۔ ملالہ کو طالبان مخالف آئیکن کی حیثیت سے مغربی این جی اوز نے منتخب کیا۔ اس میں تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ اکثر اس کی ملاقات امریکی فوج کے سینیئر  افسران، صحافیوں اور ڈپلومیٹس سے کرائی جاتی تھی جیسا کہ ڈاکیومنٹری سے ظاہر ہے۔ ملالہ کو نوبیل دے کرمغرب  نےگویا یہ پیغام دیا ہے کہ تعلیم نسواں  کے تئیں اسلام اور مسلمانوں میں کوئی اہمیت نہیں پائی جاتی ۔ لڑکیوں کے ساتھ اسلامی معاشرے میں امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ ملالہ نے نہ صرف طالبان سے مخالفت میں بلکہ تمام مسلم معاشرے کی مخالفت میں ناموافق حالات میں تعلیم نسواں کی وکالت کی ہے اور  تعلیم اور مساوات جیسی اعلی مغربی اقدار کو فروغ دیا ہے۔ ایسے "تاریک معاشرہ" میں ملالہ نے جو شمع روشن کی ہے اس کا صلہ نوبیل سے کم کیا ہوگا۔ 

ملالہ  کی شخصیت تو شروع سے متنازع تھی  ہی ، رہی سہی کسر اس کی کتاب 'I am Malala' نے پوری کر دی۔  کتاب پڑھیےتو اس میں جا بجا دل آزار باتیں ملیں گی۔ سلمان رشدی کی حمایت، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والے واقعہ اور  ناموس رسالت  کے قانون وغیرہ کو آزادیٔ اظہار کا مسئلہ بناکر پیش کرنا۔ یہ سب پڑھ کر لگتا نہیں کہ یہ سولہ سالہ بچی کی آواز  ہے۔ کتاب  لکھنے میں کرسٹینا لیمب نے ملالہ کی معاونت کی تھی ۔ محسوس ہوتا ہے کہ بات معاونت سے آگے بڑھ کر رنگ آمیزی تک جا پہنچی ہے۔ مستشرقین کے جتنے اعتراضات اسلام پر ہیں کم و بیش تمام اس کتاب میں مل جائیں گے۔ آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے تمام پاکستانی پرائیویٹ اسکولوں میں ملالہ  کی  کتاب پر پابندی عائد کر دی ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ کتاب کے متن میں ایسی بہت سی باتیں ہیں جو سکول کے بچوں کو ابہام میں مبتلا کر دیں گی۔

ایک تجزیہ نگار ڈیوڈ سوانسن لکھتا ہے کہ "ملالہ کا مغربی میڈیا میں شہرت کی بلندیوں کو چھونے کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ مغربی استعمار کے دشمنوں کا شکار ہوئی تھی۔ اگر وہ سعودی حکومت  یا اسرائیل  یا کسی بھی ایسی حکومت کی جارحیت کا شکار ہوئی ہوتی جنہیں مغربی ممالک اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں تو نہ تو ہمیں اس پر حملے کی بھنک لگتی اور نہ اس کے اچھے کاز کی خبر ملتی۔ اگر وہ محض پاکستان یا یمن میں ڈرون سے شکار ہونے والے بچوں کی وکالت کرتی توآج  امریکی ٹی وی ناظرین کے لیے بالکل اجنبی ہوتی۔"

 چین میں  بھی میڈیا ملالہ کے انعام کو مشکوک نظروں سے دیکھتا ہے۔ چینی میڈیا کے مطابق یہ انعام  پاکستان اور افغانستان میں امریکی فوجی مداخلت کو مثبت انداز میں دکھانے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔  شنگھائی انسٹی ٹیوٹ  آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ڈائرکٹر ژاؤ گانشنگ کے مطابق :"ملالہ کا پروپیگنڈا افغانستان سے امریکی فوجی دستوں کے انخلا کے ساتھ ہی شروع ہوا تھا۔ مغرب ملالہ کی کہانی کو دیگر ممالک میں اپنی فوجی مداخلت کو حق بجانب ٹھہرانے اور اس کے روشن پہلو مثلاً تعلیم نسواں اور سیاست میں خواتین کی شمولیت کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے جبکہ اس کے تاریک پہلو  مثلاً بڑھتا ہو تنازع اور پیچیدگی اور بڑے پیمانےپر شہریوں کی ہلاکت کو دبایا جارہے ۔ "

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر میک کنسے اینڈ کمپنی کے بارے میں بہت اپڈیٹس آرہے ہیں۔ یہ عالمی مینجمنٹ کنسلٹنگ  کمپنی ہے جو ملالہ پراجیکٹ کے پیچھے کار فرما ہے۔ ملالہ کی میڈیا پروموشن بہت کچھ اسی کمپنی کا  کارنامہ ہے۔

نوبیل  امن انعام ہمیشہ متنازع رہے ہیں۔ یہ انعامات یا تو خوشامدی نوعیت کے ہوتے ہیں  جو یوروپ اور امریکہ کی سیاسی شخصیات کو خوش کرنے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں یا پھر سرے سے غیر منطقی ۔ اس سال کل ۲۷۸ نامزدگیاں تھیں جن میں پوپ فرانسس ، کانگو کے ڈاکٹر ڈینس مکویج اور ایڈورڈ اسنوڈین جیسے اہم نام شامل تھے۔ عموماً نوبیل امن  ایوارڈ امن پسند افراد یا تنظیموں کو ہی دیا جاتا ہے لیکن اس کی تاریخ ایسی بھی رہی ہے کہ انتہائی وحشیانہ ماضی رکھنے والوں کو بھی یہ انعام ملا ہے۔ ایسے لوگوں میں سرِ فہرست ہنری کسنجر ہے جسے ۱۹۷۴ میں  شمالی ویتنامی لیڈر لی ڈک تھو کے ساتھ مشترکہ طور پر امن انعام کا حق دار ٹھہرایا گیا تھا۔ کسنجر کو یہ انعام ویت نام میں جنگ بندی کے معاہدے کے لیے دیا گیا جبہج جنگ اس انعام کے دو سال بعد تک جاری رہی۔۔ لی ڈک تھو نے یہ کہہ کر انعام لینے سے انکار کردیا تھا کہ امن معاہدے پر عمل درآمد ہی نہیں ہوا تو امن انعام کس بات کا؟ کسنجر تاریخِ عالم کے بدترین جنگی جرائم کا مجرم ہے جس نے ویتنام کی جنگ میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا اور ہزاروں افراد کی ہلاکت کا سبب بنا تھا۔ امن انعام حاصل کرنے کے بعد بھی کسنجر کمبوڈیا کی جنگ میں بربریت کا ننگا ناچ ناچنے سے باز نہیں آیا۔

۱۹۹۴ میں  فلسطین کے یاسر عرفات اور اسرائیل کے شمعون پیریز اور اضحاک رابن کو مشترکہ امن ایوارڈ دیا گیا تھا۔ شمعون پیریز اسرائیل کو نیو کلیئر قوت بنانے کے لیے ذمہ دار تھا۔ اس کے بعد ۱۹۹۶ میں اس پر لبنان کے قانا میں قتلِ عام کروانے کا بھی الزام ہے جس میں ۱۰۶ افراد ہلاک اور ۱۱۶ زخمی ہوئے تھے۔ رابن اسرائیل کی ملٹری میں افسر تھا جس نے ۱۹۴۸ کے نکبہ میں فلسطینیوں  پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیے تھے اور  انہیں ان کے وطن سے ہجرت پر مجبور کیا ۔ یہ شخص بھی  ہزاروں افراد کی ہلاکت کا سبب بنا۔

۲۰۰۹ میں  جب نوبیل کا امن ایوارڈ امریکی صدر باراک اوباما کی جھولی میں ڈالا گیا تو ساری دنیا پرائز کمیٹی کی اس ستم ظریفی پرششدر رہ گئی۔ اوباما کو صدارت سنبھالے ابھی ۱۲ دن ہی ہوئے تھے کہ ان کی"غیر معمولی امن مساعی"  کی خاطر ان کی نامزدگی عمل میں آگئی۔ جبکہ اوباما نے  پاکستان اور افغانستان میں ڈرون آپریشن کو آگے بڑھایا، لیبیا پر بم برسائے اور اب شام پر فوج کشی کر رہا ہے۔ ۲۰۱۲ میں یہ انعام یوروپین یونین کو دیا گیا جبکہ سب جانتے ہیں کہ اس کی ماتحت عسکری تنظیم ناٹو افغانستان اور لیبیا میں جارحیت کے لیے ذمہ دار ہے۔  ۲۰۱۰ میں ایک چینی لیو شیاؤبو (Liu Xiaobo) کو اس انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔ جبکہ اس سے ایک برس پہلے لیو کو ۱۹۸۹ میں دنگے بھڑکانے کی پاداش میں ۱۱ سال کی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ چین کی وزارت خارجہ نے اس کا سخت نوٹس لیا اور کہا کہ لیو شیاؤبو ایک مجرم ہے جس نے چینی قانون کو توڑا ہے یہ  نوبیل انعام کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے اور   ایسے شخص کو انعام دینا خودامن انعام کی توہین بھی ہے۔" ۱۹۷۸ میں کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے لیے مینکم بگن (Menachim Begin) کو امن انعام دیا گیا ۔  یہ غاصب صیہونی اسرائیلی ریاست کے معماروں میں سے ایک تھا جو اسرائیل کا وزیر اعظم بھی بنا۔ بگن دنیا کی پہلی دہشت گرد تنظیم اِرگُن کا سرغنہ تھا جس نے ۱۹۴۶ میں کنگ ڈیوڈ ہوٹل میں بم دھماکہ کیا تھا۔ اس حملے میں۹۱ جانوں کا اتلاف ہوا تھا۔

یہ محض چند مثالیں ہیں ورنہ نوبیل انعامات کی پوری تاریخ اس قسم کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔

فریڈرک ہیفرمہل ناروے کے ایک وکیل ہیں جو گذشتہ کئی برسوں سے نوبیل پرائز کمیٹی کو اس بات پر آمادہ کرنے میں مصروف ہیں کہ امن انعام کے لیے  الفریڈ نوبیل  کی وصیت پر صحیح طور سے عمل درآمد ہو سکے۔ ہیفرمہل نے دو کتابیں بھی لکھی ہیں۔ ان کی حالیہ کتاب 'Nobel Peace Prize: What Nobel Really Wanted' میں انہوں نے ۱۹۰۱ سے ۲۰۰۹ تک کے تمام ۱۱۹ نوبیل امن انعامات کا تجزیہ کیا اور ثابت کیا ہے  کہ ان میں سے بیشتر انعامات دینا نوبیل کی وصیت کے عین منافی تھا۔ ان کے مطابق گذشتہ دس انعامات میں سے ایک کو چھوڑ کر باقی تمام انعامات بلاجواز اور غیر قانونی ہیں۔ الفریڈ نوبیل نے  ۱۸۹۵ میں اپنی وصیت میں لکھا تھا کہ امن کا انعام اس فرد کو دیا جائے جس نے گذشتہ برس میں "اقوام عالم کے بھائی چارے کے لیے، جاری عسکری جارحیت کے سدباب کے لیے اور امن عالم کے لیے مجلس سازی اور  ان کےانعقاد کے لیے سب سے بڑھ کر اور سب سے بہتر کام کیا ہو۔"

ہیفرمہل حالیہ انعام کے بارے میں کہتے ہیں" ہر چند کہ ملالہ یوسف زئی بہادر ہے، ہو نہار ہے اور دلکش شخصیت کی حامل ہے۔ بچیوں کی تعلیم بہت اہم ایشو ہے اور بچوں کی مزدوری کے افسوسناک مسئلہ سے بھی چشم پوشی ممکن نہیں ہے۔ یہ دونوں کاز قابل ستائش ہیں۔ لیکن نوبیل کمیٹی نے ایک بار پھر نوبیل سے وفاداری کا ڈھونگ کیا ہے اور امنِ عالم کے اس منصوبے کو مبہم اور مخفی کر دیا جس کا نوبیل نے خواب دیکھا تھا۔ اگر یہ کمیٹی نوبیل کے لیے وفادار ہوتی تو ضرور اصرار کرتی کہ ملالہ نے اسلحے اور عسکریت کے خلاف کام کیا ہو، ممالک کے درمیان جنگ بندی کی کوشش  کی ہو، اور اسےاس  بات کا گہرا ادراک ہوکہ کیسے عسکری جارحیت تلے عوام  مصائب  سے دو چار ہوتے ہیں۔ نوجوان نسل اس بات کو بزرگوں سے بہتر جان سکتی ہے۔ "

ملالہ اور نبیلہ ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ دونوں دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں۔  تاہم ایک مغرب کی آنکھ کا تارہ  ہے جبکہ دوسری  کی بات سننا بھی مغرب اور اس کے حواریوں کو گوار نہیں۔ مغرب کے لیے قابل ِاعتنا صرف وہی ہیں  جو ان کے دشمن کے ہاتھوں جارحیت کا شکار ہوتے  ہیں۔ایسی بے حس ، مصلحت کوش اور ترجیح پسند دنیا میں نبیلہ جیسے بچوں کے لیے شاید ہی کوئی ایوارڈ سیرمنی ہو گی اور شاید ہی  اس کے آنسو پونچھنے کے لیے کوئی آگے آئے گا۔ ایسے حالات میں امن کے ان ٹھیکیداروں کے ذریعے عالمی امن انعام کا اعلان ایک الم ناک اور بیہودہ مذاق کے سوا کچھ نہیں ہے۔

2013/12/29

غزل۔ دیں دیدٔہ خوش خواب کو تعبیر کہاں تک

دیں دیدٔہ خوش خواب کو تعبیر کہاں تک
اے وقت ترے جبر کی توقیر کہاں تک

2013/12/12

میں اردو زباں ہوں - ڈاکٹر خالد مبشر کی تازہ نظم

'میں اردو زباں ہوں' ڈاکٹر خالد مبشر کی تازہ نظم ہے۔ موصوف جامعہ ملیہ اسلامیہ میں  شعبۂ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔ زیرغورنظم میں انہوں نے اردو کی زبانی اس کے تابناک ماضی کی خوبصورت مرقع کشی کی ہے۔ نظم اپنے اختتامیے پر ایک پردرد احتجاج میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
شاعری کا  اصل لطف اسے بزبان شاعر سننے میں ہی ہے۔ کیوں نہیں، حاضر ہے خود شاعر کی ریکارڈ کردہ آواز میں یہ پر اثر نظم۔ 
غزل سننے کے لیے پلے بٹن پر کلک کریں۔

2013/11/01

تبصرہ: مرید سخن۔ شعری مجموعہ

  [ڈاکٹر طفیل آزاد (متخلص بہ صابرؔجہان آبادی) کے لیے کچھ لکھنا میرے لیے ایک  فریضے کا درجہ رکھتا ہے۔ وہ میرے لیے شفیق مربی بھی ہیں اور بے تکلف دوست بھی۔ جب انہوں نے مجھے اپنے دوسرے شعری مجموعے 'مرید سخن' پر کچھ لکھنے کا حکم دیا تو میں نے بلا تأمل حامی بھرلی کہ ان کی محبتوں کے خیال سے انکار کا یارا نہ تھا۔ لیکن اب جب کہ میں لکھنے کے لیے بیٹھا ہوں ذہن میں ان کے فن اور شخصیت سے زیادہ اپنی بے بضاعتی اور کم مائیگی کا احساس غالب ہے اور ہر جنبش قلم پر ذہن میں یہی سوال گونجتا ہے: من کیستم؟ لیکن یہ فریضہ  تو بہر حال ادا کرنا ہے۔] 

صابرؔجہان آبادی- – ایک دردمند دل کا شاعر

شاعری نام ہے کائنات کے بسیط  مشاہدات  اور قلب و ذہن   کی واردات کو لطیف  پیرائے میں بیان کرنے کا۔ شاعر کو وہ دیدۂ بصیرت نگاہ عطا کیا گیا ہے جس کی بدولت شاعر ان چیزوں اور کیفیات کا مشاہدہ کرتا ہے جو عام انسانوں کی دسترس میں نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کی شاعری پرکبھی جزو پیمبری اورکبھی الہام ہونے کا گمان ہوتا ہے۔
صابرؔ جہان آبادی ایک دردمند دل رکھتے ہیں۔ شاعری ان کے لیے وسیلۂ اظہار نہیں بلکہ اپنے آپ سے گفتگو کرنے کا ذریعہ ہے۔ صابرؔ کی شاعری پڑھیے تو بادی النظر میں بڑے سادہ الفاظ اور سیدھے سادے خیالات نظر آتے ہیں لیکن دروں بینی سے جائزہ لیں تو ان میں گہرا فکری عمق اور پختگی کارفرما ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ سیدھے سادے شعر اپنے اندر معنی کی کیسی کیسی پرتیں سموئے ہوئے ہیں۔  شاعر اپنی داخلی کیفیات کو ابھارنے کے لیے بھاری بھرکم الفاظ، مبہم تشبیہات و استعارات اور گنجلک فلسفیانہ باتوں کا سہارا نہیں لیتا بلکہ عام فہم ،سادا ، سبک اور پیچ و خم سے عاری الفاظ سے ہی وہ معنی کی تہیں بٹھاتا چلا جاتا ہے۔
ان کے اشعار میں دھیمی دھیمی بہنے والی جوئے آب کی خفتہ سی روانی بھی ہے اور تیز رو ندی کا جو ش بھی۔ لہجہ کبھی نرم اور کبھی برہم ہوتا ہے۔ اس میں پچھلے زمانے کی ناسٹلجیائی اداسی بھی ہے اور مستقبل کی تابناک امیدیں بھی۔  شاعر  کااپنے سلسلہ تلمذ سے  والہانہ انسلاک اور لگاؤ بھی ملتا ہے اور اپنے ہم عصر  اور ہمکار احباب کا تذکرہ بھی۔ 
سچا فنکار اپنے آس پاس کے حالات سے باخبر رہتا ہے ۔ حسن عسکری کے بقول ہر ادب پارہ اپنے اندر حقیقت کا کوئی نہ کوئی تصور رکھتا ہے۔ صابر کا اشہب قلم بھی محض تخیل کی سرسبز اور رنگین وادیوں میں گلگشت نہیں کرتا بلکہ ان کے کان عصری ماحول کی چیخ پکار پر بھی لگے رہتے ہیں جو ان کے فن میں ڈھل کر سراپا احتجاج بن جاتے ہیں۔صابر صاحب کے بہت سے اشعار سہل ممتنع کا درجہ رکھتے ہیں۔ عام بول چال میں وہ اپنی بات کہہ گزرتے ہیں۔ آئیے ان کے چند اشعار دیکھتے چلیں:

شاخوں سے آج پتے بچھڑ بھی گئے تو کیا
ماضی کی پھر بھی یاد کا قائم شجر تو ہے

آرزو وصل کی کچھ اس طرح ہوئی رنجیدہ
جیسے دلہن کوئی میکے سے سسکتی جائے

اپنے اسلاف کے رستے سے بھٹک کر صابر
یہ نئی نسل پریشان ہوئی جاتی ہے

تجھ کو پانے کی دعا مانگی مگر لا حاصل
اب دعا کے لیے ہم ہاتھ اٹھاتے بھی نہیں

کھوئی تہذیب کہاں ہے صابرؔ
آؤ مل جل کے پتہ کرتے ہیں

اتنی مہلت بھی نہیں خود سے کہ ہم بات کریں
جسم کا بوجھ اٹھانے سے کہاں فرصت ہے

شہر کی رونقیں بڑھیں جب سے
ہو کا عالم ہے تب سے گاؤں میں

پوچھتا پھرتا ہوں اپنے ہی نشیمن کا پتہ
آج کس موڑ پہ یہ زیست مجھے لے آئی

قسمت کا لکھا کیا ہے، اور لوح و قلم کیا ہے؟ 
یہ کیا ہے سیاہی کا کاغذ پہ بکھر جانا

سعی لاکھ کی تجھ کو پانے کی میں نے 
مگر آج جانا کہ تو رو برو ہے

اس کی خفگی میں ہی شامل ہے وفا کی خوش بو
وہ اگر مجھ سے خفا ہے تو خفا رہنے دے

آپ پڑھتے ہیں کب کتابِ دل 
آپ سے بس یہی شکایت ہے

نسلِ آدم کی بقا اور ترقی کے لیے
بزمِ ہستی کو ابھی اور سنورنا ہوگا

مفلسی در پہ کھڑی رہتی ہے
یہ مرے گھر کا پتہ ہو جیسے

دعا کرتا ہوں سب کی خیر خواہی کی
دعاؤں میں اثر میری، خدا دے گا

زمانے سے آنسو چھپائے تو تھے
مگر آنکھ میں کچھ نمی رہ گئی

یہ کٹھن کام ہے بہت صابرؔ
اپنے عیبوں کو بھی ہنر کہنا

ان کے یہاں اتھاہ انسان دوستی پائی جاتی ہے۔ احساس زیاں کا کرب اور گزرے دور کی محرومیوں کے تذکرے سے وہ ہمارے قلب و ذہن پر دستک دیتے ہیں۔  ان اوصاف کے ساتھ کوئی تعجب کی بات نہ ہوگی کہ کل صابرؔ جہان آبادی ہمارے لیے ایک جانا مانا نام ہو لیکن جو وہ آج ہیں اس کی داد تو دیتے چلیں۔ 
ان کے شعروں میں عام گفتگو کا سا انداز پایا جاتا ہے اور ایک سوچتی  ہوئی غمگین لیکن سنجیدہ فضا قاری کو اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہے۔ خلوص اور انسان دوستی ان کے اشعار کا خاصہ ہیں۔ زبان تصنع اور ریاکاری سے پاک ہے۔ ہاں کہیں کہیں   آورد کا احساس ہوتا ہے  اور ان کے ابتدائی دور کا کلام  شامل اشاعت ہونے سے بعض فنی اسقام بھی در آئے ہیں  لیکن یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کتاب کے مجموعی تاثر کو نقصان پہنچاتی ہو۔اس سب کے باوجود قاری کو ان کے اشعار موہ لیتے ہیں۔ یہ مجموعہ کتنا کامیاب ہے اس کا فیصلہ تو قارئین کو کرنا ہے۔ ہمیں بس اتنا کہنا ہےکہ خوب سے خوب تر کی جستجو میں صابرؔ جہان آبادی کو بس اسی پر قناعت نہیں کرنی ہے بلکہ اظہار  کے نئے آفاق کو چھونا ہے لیکن یہ مشروط ہے عمیق مطالعہ و مشاہدہ اور کڑی ریاضت اور استقامت سے۔

ان منکسرانہ معروضات کے ساتھ میں مرید سخن کا ایک جدید تخلیقی مرقع کے طور پر استقبال کرتا ہوں۔ 
۳۰ستمبر۲۰۱۳ء

2013/10/30

غزل۔ کنارِ فرات امتحاں اور بھی ہیں

کنارِ فرات امتحاں اور بھی ہیں
لبِ دریا تشنہ لباں اور بھی ہیں

2013/10/10

تکثیری معاشرہ اور ہمارا مطلوبہ رویہ -آخری قسط

دوسروں کے سب و شتم سے احتراز

مسلمانوں کا دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے تئیں رویہ اسلام کے عمومی انسانیت نواز نظریے سے جلِا پاتا ہے۔ ہم اس سے پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ اسلام اپنے پیروکاروں کو دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے مذہبی جذبات کے احترام کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن کا ایک واضح فرمان مسلمانوں کو دوسروں کے دیوتاؤں اور خداؤں کے سبّ و شتم سے گریز کرنے کا حکم دیتا ہے

2013/10/02

نظم۔ کاروانِ سخت جاں

مصر میں فوجی جارحیت سے برسرِ پیکار اخوانی جیالوں کے نام ایک نظم